خام خیالی (تم ہمیشہ خاموش کیوں رہتے ہو؟)

خام خیالی!

تم ہمیشہ خاموش کیوں رہتے ہو؟ کسی سے اتنی خاص بات چیت بھی نہیں کرتے۔

"بس ایسے ہی اگر کچھ بات کرنے کو ہو توہی کرتا ہوں نہیں تو خاموشی اچھی چیز ہے”۔ تم کچھ زیادہ ہی محدود ہو ایک ڈبے میں بند، ایسا نہیں ہونا چاہیے انسان کو۔” نہیں ایسی بات نہیں ہے بس جب کبھی دائرے سے باہر آنے کی کوشش کی تو کسی نے بھی برداشت نہیں کیا تو اسی لیے ڈبے میں قید ہوگیا”۔

تم میرے ساتھ کھل کر بات کر سکتے ہو میں کسی کی بھی کردار کشی کرنے کے بالکل حق میں نہیں ہوں۔ "شکریہ! مجھے تمھاری یہ بات بہت پسند آئی……اچھا! کافی باتیں ہوگئیں ایسے ہی، کہیں چائے پینے نہ چلیں، کسی اچھی سی جگہ پر بیٹھ کر بات کریں گے”۔

تم جیسے لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، دو باتیں کسی نے ہنس کے کرلیں تو پتا نہیں کیا سمجھتے ہو، اپنے آپ سے ہی باہر ہوجاتے ہو۔

 

beautiful sparrow

خام خیالی!(چڑیا آج بہت خوش تھی کیوں کہ اس کو اپنے گھونسلے کے قریب ہی بہت سے دانے مل گئے تھے)

چڑیا آج بہت خوش تھی کیوں کہ اس کو اپنے گھونسلے کے قریب ہی بہت سے دانے مل گئے تھے۔ خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی کہ آج بچوں کے پاس واپس جلدی پہنچ جائے گی ۔

اڑان بھر کے وہ ایک درخت کی سب سے اونچی شاخ پہ بیٹھ گئی کچھ دیر سستانے کے لیے اور کیوں نہ وہ ٹھہرتی کہ ہر روز کتنا دور جانا پڑتا تھا رزق کی تلاش میں۔ وہ کچھ دیر سستانے کے بعد بہت خوش، پھر سے اڑ گئی. سوچ رہی تھی کہ آج بچے کتنا خوش ہوں گے کہ ماں جلدی واپس آگئی۔

اسی خوشی میں وہ اڑتی اڑتی ایک اجنبی جگہ پہ پہنچ گئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کچھ مانوس سی جگہ لگی لیکن یہ اس کا علاقہ نہیں تھا۔اسے لگا کہ وہ کسی غلط جگہ پہ پہنچ گئی ہے لہٰذا واپس گئی، دوسرا رستہ لیا لیکن گھر نہ ملا۔

کئی رستے بدلنے کے بعد وہ پھر اسی مانوس سی جگہ پہ پہنچی تو اسے احساس ہوا کہ یہ جگہ تو وہی ہے مگر اس کا گھر اب وہاں نہیں ہے۔

محمد عثمان ریحان

مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close