خام خیالی

 

خام خیالی1

جب روشنی تقسیم ہورہی تھی تو ہر کوئی اپنا اپنا ظرف لے کر پہنچ گیا۔ سورج ہڑا تھا سو اس کے حصے میں بہت زیادہ روشنی آئی۔ چاند کا برتن بھی بھر دیا گیا۔ ستاروں نے پہنچنے میں دیر لگادی تو حصہ کم ملا۔ دن اور سورج دونوں ایک ساتھ آگئے تھے اس لیے ان کو آپس میں سمجھوتہ کرنے پر آمادہ کرلیا گیا اور ان کو روشنی کے ایک حصے پر ہی اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا۔

 

چراغوں نے آنے میں تو دیر نہ کی لیکن ان کے ظروف چھوٹے نکلے تو وہ حصہ بقدر جثہ پر ہی سجدۂ شکر بجا لائے۔ حشرات کو دعوت نامہ نہیں ملا تھا لیکن جگنو بے خبری میں وہاں سے گزر رہا تھا تو اس کو پلک جھپکنے تک روشنی عطا ہوئی کہ کسی کو بھی خالی ہاتھ نہیں بھیجا جارہا تھا۔ رات سب سے آخر میں آئی جب سب کچھ بٹ چکا تھا۔ لیکن چونکہ خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجا جاسکتا تھا تو چاند اور ستاروں کو رات کی مدد کرنے کی التجا کی گئی جو انہوں نے کچھ حیل و حجت کے بعد قبول کرلی۔ یوں روشنی بٹ گئی۔ آنکھ جو کہ یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی اور شروع سے لے کر آخر تک موجود رہی لیکن اس کی موجودگی کا احساس نہ ہوسکا تو ساری روشنی کو تقسیم ہونے کے بعد آنکھ میں جمع کردیا گیا۔

خام خیالی 2

الفاظ کی ہجرت شروع ہو چکی تھی۔ بہت سے بوسیدہ لفظ جن کے معنی ناپید ہوچکے تھے ان کو دفن کیا جارہا تھا یا بعض کو عجائب گھروں میں سجانے کے لیے لے جایا جارہا تھا۔ کچھ الفاظ نئے نئے معنی پیدا کررہے تھے اس لیے ان کی اہمیت بہت بڑھ چکی تھی۔ ہر طرف ان ہی کی مانگ تھی اور ہر کوئی انہیں سراہ رہا تھے۔

 

بے معنی لفظوں کا درد بھی کسی پر عیاں ہونے سے قاصر تھا کہ ان کے پاس بیاں ہی نہیں تھا۔ وہ لفظ جو نئے معنی پیدا کررہے تھے ان کی خوشیاں ساتویں آسمان پر تھیں۔ وہ کسی طور بھی ہاتھ آ کے ہی نہ دیتے تھے۔ لیکن ان کو شاید یہ خبر نہ تھی کہ وہ لفظ جو اس وقت تابوتوں کی زینت بننے جا رہے ہیں وہ بھی کبھی معنی پیدا کرتے تھے۔ جب ان پر بھی بہار تھی تو ان کے بھی پیر زمین پر نہیں ٹکتے تھے

مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close