خام خیالی1 (مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہو)

خام خیالی1 (مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہو)

مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہو ذرا سی بھی، صرف کھوکھلے دعوے ہیں "۔ "خدارا ایسی باتیں نہ کیا کرو تمھیں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ یہ بات میرے رنگوں کو پھیکا کردیتی ہے” ۔ تم ہزاروں تصویریں بناتے ہو ایک سے بڑھ کر ایک حسین، کتنے دل کش مناظر، آبشاریں، کہکشائیں، سورج، رقص، انسان، حیوان حتیٰ کہ ہوا، نہیں ہیں تو صرف میری تصویر کے لیے تمھارے پاس رنگ نہیں ہیں” ۔

"میں تمھیں کیسے سمجھاؤں؟ دیکھو! سچ پوچھو تو ابھی وہ رنگ ہی نہیں بنا جو تمھاری تصویر کو مکمل کر سکے اور اس سے بھی بڑا سچ یہ کہ تم مکمل ہو اور تصویر کو مکمل کرنا پڑتا ہے یہ بظاہر ایک بے معنی بات ہے لیکن درحقیقت ایک بہت بڑی اذیت ہے جسے تم نہیں سمجھ سکتی”۔
( اگر تصویر بناتے ہوئے مصور ہی نہ رہا اور تمھاری تصویر ادھوری رہ گئی تو؟)

 

خام خیالی 2 (تم نے جو کل مجھے تصویر بھیجی تھی بہت معصوم تھی)

 

 

تم نے جو کل مجھے تصویر بھیجی تھی نہ، وہ بھی تمھاری ہی طرح بہت معصوم تھی۔ بڑے بچگانہ سوال کرتی رہی مجھ سے، بالکل تمھاری طرح۔ کہنے لگی کہ کیوں بار بار دیکھ رہے ہو مجھے؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کچھ نہیں بس ویسے ہی، لیکن وہ بھی تو تمھاری تصویر تھی،بالکل تمھارے ہی جیسی ضدی۔ سوال پہ سوال، ایسا کیوں؟ ویسا کیوں؟ اور اگر کسی سوال کا جواب نہ دوں تو ناراض ہوکے منہ بسور لیتی۔

کہتی ویسے تو تم نہیں دیکھتے، کوئی نہ کوئی تو غرض ہو گی۔ توجب وہ بالکل تمھارے ہی انداز میں ناراضی سے منہ پھیرنے لگی تو مجھے بتانا ہی پڑا کہ تمھارے بالوں میں سے جو روشنی چھن کے آرہی ہے وہ میری آنکھوں کو روشن کرتی ہے اور تمھارے ادھ کھلے ہونٹوں سے میری سانس کے لیے ہوا کا رستہ بنتا ہے۔ کہنے لگی تم کچھ چھپارہے ہو۔ میں بالکل حیران نہیں ہوا کیونکہ ایسا سوال کرتے وقت تمھارے آنکھیں ایسے ہی نیم وا ہوتی ہیں جیسے تصویر میں تھیں ۔میں سمجھ چکا تھا کہ تم ہو یا تمھاری تصویر، میں کوئی بات چھپا نہیں سکتا، تو بتا دیا کہ تمھاری یہ نیم وا آنکھیں میرے لیے زندگی کی علامت ہیں۔

تمھیں بار بار دیکھنا میرے لیے نا گزیر ہے۔

محمد عثمان ریحان

ٹیگز
مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close