خام خیالی ( ہزاروں سال پہلے کی بات ہے جب چاند بھی دن میں نکلا کرتا تھا۔ اس دور میں چاند کو چمکنے کی اجازت نہیں تھی )

خام خیالی1 (ہزاروں سال پہلے کی بات ہے جب چاند بھی دن میں نکلا کرتا تھا)

ہزاروں سال پہلے کی بات ہے جب چاند بھی دن میں نکلا کرتا تھا۔ اس دور میں چاند کو چمکنے کی اجازت نہیں تھی اور وہ بھی خاموش، دوسرے سیاروں، ستاروں کی طرح دن میں آتا اور بغیر کسی روشنی کے واپس چلا جاتا۔ لیکن چاند عام سیاروں، ستاروں سے تھوڑا سا مختلف تھا اور طبیب بتاتے تھے کہ اس کو سوچنے کی بیماری لاحق ہے۔ اس بیماری کا اثر جلد ہی نظر بھی آنا شروع ہوگیا اور چاند نے چمکنے کی ضد شروع کردی۔

آغاز میں تو یہ ضد صرف باتوں کی حد تک تھی لیکن پھر کچھ عرصے بعد چاند نے تھوڑا تھوڑا چمکنا بھی شروع کردیا۔ جب ہزار ہا پند و نصائح کے با وجود چاند باز نہ آیا تو سزا کے طور پر اس کا چہرہ داغ دیا گیا۔ اس سزا کا چاند پر الٹا اثر ہوا اور اس نے سورج کے سامنے سینہ زوری سے چمکنا شروع کردیا۔ اس منہ زوری کو دیکھتے ہوئے چاند کو سَزا کے طور پر دن سے بے دخل کر کے رات میں پھینک دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، چاند پوری آب وتاب سے چمکتا ہے۔ ہرچند اس کو ماند کرنے کے لیے کبھی کبھی بادل بھی بھیجے جاتے ہیں لیکن وہ پھر اپنا رستہ بنا لیتا ہے اور کبھی کبھی تو دن میں بھی سورج کے سینے پہ مونگ دلنے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔

چہرہ چاہے داغ دار ہے لیکن چمکنے سے اسے اب کوئی نہیں روک سکتا!

خام خیالی2 (صبح نے سانس لینا چاہی تو سورج نے ہوا دینے سے انکار کردیا )

Rising of Sun

صبح نے سانس لینا چاہی تو سورج نے ہوا دینے سے انکار کردیا۔ اندھیروں نے چاروں طرف سے گھیر کر صبح کو ایک غار میں بند کردیا۔ستاروں نے دن کی روشنی کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کردیا۔ چاند کھلکھلا رہا تھا اور اپنی ٹھنڈی چاندنی کے ساتھ پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔ آج اس کو کوئی مائی کا لال واپس اس کی غار میں نہیں بھیج سکتا تھا۔

سنا ہے کہ یہ چاند ہی کی سازش تھی، جو اس نے ستاروں سے مل کررچی تھی۔ وہ اس لیے کہ وہ دن بھر غار میں چھپے رہنے پہ مجبور تھا کیوں کہ ہر روز صبح اسے تنگ کرتی تھی اور بہت کم دن کی روشنی میں باہر نکلنے دیتی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ستاروں نے ہی سورج کو بہلانے پھسلانے کی ذمہ داری لی تھی کیوں کہ سورج ان کا بہت پرانا ساتھی جو رہ چکا تھا۔

تحریر: محمد عثمان ریحان

مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close