خام خیالی (زندگی اور موت، دونوں کی جنگ ازل سے جاری ہے۔ دونوں میں سے فاتح کون ہے اور کون مفتوح؟)

خام خیالی1  (زندگی اور موت، دونوں کی جنگ ازل سے جاری ہے)

زندگی اور موت، دونوں کی جنگ ازل سے جاری ہے۔ دونوں میں سے فاتح کون ہے اور کون مفتوح؟ آج تک کوئی سمجھ نہیں پایا۔ ایسی جنگ جو ہوتی تو زندگی اور موت کے درمیان ہے لیکن مارا ہمیشہ انسان جاتا ہے(زندہ رہ کر بھی اور مرکے بھی)۔ اک راز ہے جو موت کے آنے کے ساتھ ہی دفن ہوجاتا ہے۔

کیا یہ راز مرنے والے پہ کھلتا ہوگا؟

اس سوال کا جواب بھی کوئی نہ دے سکا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں زندگی طاقت ور ہے کیونکہ موت کے بعد زندگی ہے، جس میں کوئی نہیں مرتا۔ ایک طبقہ وہ ہےجو کہتا ہے کہ موت طاقت ور ہے کہ جو نظر آرہا ہے وہی حقیقت ہے۔ ہمارے سامنے موت زندگی کو آلیتی ہے اور موت کے بعد انسان ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ معمہ ہے کہ حل ہو کے ہی نہیں دے رہا……. میری تحریر بھی بے ربط سی ہے بالکل حیات و ممات کی کشمکش کی طرح۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید تبھی مل پائے گا جب ہم اس کو گلے لگائیں۔

بس ایک حقیقت کہ جس پر کوئی بھی مباحثہ نہیں وہ یہ ہے "موت کا نغمہ ہر کسی کو سننا ہوگا”۔

خام خیالی 2 (میں کھو گیا تھا ۔ بہت پریشان تھا  انجانے میں ادھر ادھر بھٹک گیا ہوں گا)

 

میں کھو گیا تھا۔ بہت پریشان تھا کہ کہیں کسی نے اغواء تو نہیں کر لیا یا کہیں انجانے میں ادھر ادھر بھٹک گیا ہوں گا۔ یہ بھی خیال آیا کہ کہیں کوئی بھیانک حادثہ ہی نہ پیش آگیا ہو۔ بہت سے لوگوں سے پوچھا تو کسی کو بھی میرا کچھ اتاپتا نہیں تھا۔ پھر سوچا کہ کس کو اتنی فکر کہ میرا خیال رکھے؟

تو ادھر ادھر سے پوچھ تاچھ کے بعد آخر خود ہی ہمت کرنا پڑی اور کمر کس لی۔ خود کو کافی ڈھونڈا ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک ڈھیر پہ خود کو اوندھا پڑا پایا۔ دوڑ کر وہاں گیا اور جلدی سے اٹھا کر صاف کیا ٹٹول کر دیکھا تو نبض چل رہی تھی لیکن سانس بہت اکھڑ رہی تھی۔ جلدی سے کاندھوں پہ اٹھایا اور بڑی مشکل سے واپس لا کر خود کو بستر پہ لٹادیا۔ منہ دھلایا کپڑے شپڑے تبدیل کیے تو اتنے میں کچھ ہوش آیا۔

جب آنکھیں مکمل کھلیں تو شکر ادا کیا کہ سلامتی سے واپس پہنچ گیا ہوں۔ میں بہت سہما ہوا تھا۔ خود کو تھوڑا ڈانٹتے ہوئے پوچھا کہ کہاں تھے؟ یونہی منہ اٹھا کر کہیں بھی چلے جاتے ہو۔ تو میں نے خود کو بتایا کہ وہ بس دنیا میں چلا گیا تھا بھول کر، شکر ہے کہ مل گیا اور واپس آگیا۔

تحریر : محمد عثمان ریحان

مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close