خام خیالی (اکثر اکڑی ہوئی گردنیں تلواروں پہ ہمیشہ گراں ہی گزرتی ہیں)

خام خیالی (تلوار نے گردن کو آخری بار تنبیہ کی اور سمجھایا کہ جھک جاؤ اور اپنی اکڑ ختم کر دو، نہیں تو ماری جاؤ گی)

تلوار نے گردن کو آخری بار تنبیہ کی اور سمجھایا کہ جھک جاؤ اور اپنی اکڑ ختم کر دو، نہیں تو ماری جاؤ گی۔ تمھارے اندر جتنی بھی اکڑ ہو اگر میرے ساتھ الجھو گی تو زمین پر آرہو گی اور تمھارا غرور مٹی میں مل جائے گا۔

گردن بھی اپنے اندر سریا سموئے تھی شاید، کہنے لگی کہ مٹی میں تو ایک دن سب کو ملنا ہے اگر میں تم سے نہ الجھ کر بچ بھی جاؤں تو کیا ضمانت ہے کہ کسی اور شے کی زد میں نہ آؤں گی؟

تم سے جھک کر بچ نکلوں گی تو تا عمر جھکا رہنا پڑے گا اور مار پھر بھی آخر ایک نہ ایک دن پڑ ہی جائے گی۔ میرا فیصلہ اٹل ہے اس لیے تم اپنی فکر کرو، اصل میں تم نہیں جانتی کہ تمھارا انجام کیا ہوگا؟ میں بتاتی ہوں، تم نے پہلے ایسی اکڑ والی گردن کبھی دیکھی ہی کہاں ہے؟

تم جب مجھے کاٹ چکو گی تو اندر تمھارا بھی کھوکھلا ہو جائے گا۔ میرا خون تمھاری دھار کو جذب کرکے تمھاری طاقت کو پگھلا کر زمین کو رنگ بخشے گا اور مجھے ایک اعزاز کے ساتھ، اسی اکڑ کے ہمراہ سلامیاں دیتے ہوئے سپرد خاک کیا جائے گا اور تم پھر جا پڑو گی کسی نیام میں زنگ آلود ہونے کے لیے یا کسی رسد گاہ میں گلنے سڑنے کے لیے۔

وہی ہوا، اکثر اکڑی ہوئی گردنیں تلواروں پہ ہمیشہ گراں ہی گزرتی ہیں۔ گردن زمین پر آرہی اور تلوار کی زندگی ختم!

تحریر: محمد عثمان ریحان 

:دودسری تحریریں بھی پڑھے:

(زندگی اور موت، دونوں کی جنگ ازل سے جاری ہے۔ دونوں میں سے فاتح کون ہے اور کون مفتوح؟)

("ابے سن! دیکھ وہ آج پنجرے کی کھڑکی کھلی چھوڑگیا، چل بھاگ چلتے ہیں، ” توتی نے اپنے ساتھ قید توتے سے پھڑپھڑاتے ہوئے کہا”

ٹیگز
مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close