خام خیالی ("ابے سن! دیکھ وہ آج پنجرے کی کھڑکی کھلی چھوڑگیا، چل بھاگ چلتے ہیں، ” توتی نے اپنے ساتھ قید توتے سے پھڑپھڑاتے ہوئے کہا”

خام خیالی ( دیکھ وہ آج پنجرے کی کھڑکی کھلی چھوڑگیا، چل بھاگ چلتے ہیں،” توتی نے اپنے ساتھ قید توتے سے  کہا)

 

"ابے سن! دیکھ وہ آج پنجرے کی کھڑکی کھلی چھوڑگیا، چل بھاگ چلتے ہیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے” توتی نے اپنے ساتھ قید توتے سے پھڑپھڑاتے ہوئے کہا….”اور پھر ہو سکتا ہے مجھے میری پسند کا کوئی توتا مل جائے اور تجھے تیرے خوابوں کی مینا!

 

ابھی موقع ہے زندگی بھر ایسا موقع دوبارہ نہ ملے گا” اور اپنی چونچ سے اس نے مالک کے دیے ہوئے دانے کا چھلکا پھینکا۔ توتے نے اس کی بات کو ان سنا سا کیا اور ناشتے میں مصروف رہا۔

 

توتی نے آکر اس کے پر پہ زور سے چونچ ماری” ڈرپوک انسان! زندگی صرف آزادی کا نام ہے، قید میں رہنا تو سزائے موت سے بڑی سزا ہے” توتے کو غصیلے انداز میں سمجھایا ۔”تم نے کبھی دانہ چگنے کے لیے محنت کی ہے؟” توتا سٹپٹا سا گیا۔ توتی نے لاپروائی سے پر کو کھرچتے ہوئے نفی کی۔ "کبھی ایک وقت بھوکا رہنا پڑا ہو یا پھر دانہ ملنے میں دیر ہوئی ہو یا پھر یہ فکر کرنا پڑا ہو کہ ایک وقت تو کھا لیا اب دوسرے وقت کا دانہ کب ملے گا؟”

 

توتے نے پھر پوچھا تو توتی چڑتے ہوئے بولی کہ فضول چونچیے! جب ہم اس کے پاس قید ہیں تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں وقت پہ کھلائے پلائے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے فکر کرنے کی؟” اچھا! تو آزاد ہونے کے بعد کیسے انتظام کرو گی؟” توتی نے غصے سے ایک چیخ ماری اور اڑ کر دانے کی ڈبیا پر جا بیٹھی…. آزادی کی قیمت جیب میں نہ تھی۔

مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close