رُوشن دِماغ شاعر ( عقیل عباس)

رُوشن دِماغ شاعر ۔۔۔۔۔ عقیل عباس۔۔۔۔!!

 

عقیل عباس کا شمار دورِ جدید کے اُن شعرا میں ہوتا ہے جہنوں نے بہت کم عرصے میں اپنی انتھک محنت اور لگن سے دنیائے ادب میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔عقیل عباس ایک کُہنہ مشق شاعر جسے اظہار کا مکمل قرینہ ہے خوب سے خوب تر کی تلاش عقیل عباس کا مسئلہ ہے۔نادر اور نایاب تشبہیات، استعارات، کنایات کا استعمال اُن کا خاصا ہے۔کچھ الگ کرنے کی دُھن ہی اُنہیں اپنے ہم عصر شعرا -سے ممتاز کرتی ہے ۔اُن کی غزلوں میں ردیف قافیہ کی بندش بہت چُست، نئی زمینیں اور مضمون آفرینی لائق تحسین ہوتی ہے -۔

بدن تو تھا ہی نہیں آگ تھی مجسّم آگ
ہم اس سے ملتے نہیں تو جلے نہیں ہوتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی محبت کی رائگانی میں رہ گیا ہے
ہماری آنکھوں کا پانی، پانی میں رہ گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش ہے اور یاد بھی سر پر سوار ہے
لڑکی! تمہارے ہجر کا یہ پہلا وار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن دنوں عشق نہیں ہوتا تھا
کالے پانی کی سزا ہوتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عقیل عباس کی غزل کا سب سے نمایاں پہلو استعارے کی جدت اور دلکش استعمال ہے۔عقیل عباس کے پاس ایسے درجنوں اشعار موجود ہیں جو ہمیں اپنے ندرتِ خیال اور مضمون آفرینی کی وجہ سے چونکاتے ہیں۔ اردو کی وسعت دیگر زبانوں کے بامعنی الفاظ کی قبولیت سے تشکیل پاتی ہے۔اُن کے ہاں انگریری الفاظ کا ایسا برجستہ استعمال معنویت کے نئے در روشن کرتا ہے۔

خدا کو خط لکھوں گا خودکشی کا
لکھوں گا میں Resign کر رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اُتر رہا ہے ملال میک اپ کا شیڈ بن کر
کوئی تو ہے جو بھری جوانی میں رہ گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
عقیل عباس کی شاعری میں دیہی زندگی اور اُس کے خدوخال کا بیانیہ بڑا واضح ملتا ہے۔۔دیہاتی ماحول میں ایک عجیب سی اپنائیت ہوتی ہے جو انسان کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔عقیل عباس کا بچپنا اور جوانی بھی دیہاتی فضا میں گزرا ہے ۔اس لیے مناظرِ قدرت اور عام دیہی زندگی کے اسباب کا اظہار بڑے شائستہ انداز میں ملتا ہے۔

اُس نے اپلوں پہ دیگچی رکھی
اور پکنے لگا شباب اس کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روز کرتی ہے وہ مٹی سے لپائی لیکن
روز دیوار میں سوراخ نکل آتا ہے۔

دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت عقیل عباس کے علم میں خیر اور برکتوں کا نزول فرمائے اور وہ یونہی اچھا شعر کہتے رہیں ۔۔آمین

تحریر: شعیب عدن

مزید دیکھیں
Back to top button
Close
Close